صفحات

Friday, 6 January 2017

سبز اطلس کا تلک لے کے تجھے دیکھوں گا

سبز اطلس کا تلک لے کے تجھے دیکھوں گا
حسن محتاط! جھجک لے کے تجھے دیکھوں گا
کون سا رنگ مساموں میں اتر آتا ہے
جسم سے تیرے دھنک لے کے تجھے دیکھوں گا
تجھ کو چھونے کیلئے گھاس پہ رکھوں گا میں ہاتھ 
اور شبنم سے چمک لے کے تجھے دیکھوں گا
برف پر لکھا ہوا حرف تِرا روپ سروپ 
میں کوئی سانس خنک لے کے تجھے دیکھوں گا
تیری آنکھوں کی اجازت سے اٹھیں گی پلکیں
دیکھنے کا تجھے حق لے کے تجھے دیکھوں گا

دانيال طرير

No comments:

Post a Comment