کب پھول کلی سے پھول بنا یہ پتا تو ہے پر یاد نہیں
کب اس سے معاملہ دل کا ہوا یہ پتا تو ہے پر یاد نہیں
یہ فرقت قربت جیسی ہے اس فرقت کو احسان سمجھ
تم ہی نے مجھے یہ راز کہا یہ پتا تو ہے پر یاد نہیں
تیرا ہنسنا ایک قیامت ہے کل چلتی ہوا نے مجھ سے کہا
پھر چپکا ہے کل شام سے وہ پھر اس نے مِرے لب چھوئے نہیں
پھر شاید مجھ سے ہے وہ خفا یہ پتا تو ہے پر یاد نہیں
تم وصل کے پھول کھلاؤ تو، خود آنگن بیلا مہکے گا
کب کشف یہ تم پر کھولا تھا یہ پتا تو ہے پر یاد نہیں
اک بار بدن میں اترو تو پھر چاہے پلٹ کر مت آنا
تِری روح میں اترنے کا رستہ یہ پتا تو ہے پر یاد نہیں
صفؔدر میں دل کے دریا کے ساحل پہ بیٹھا سوچتا ہوں
کب پہلی بار تو مجھ کو ملا یہ پتا تو ہے پر یاد نہیں
صفدر ہمدانی
No comments:
Post a Comment