محاصل سے پریشانی زیادہ
ثمر ہے کم، نگہبانی زیادہ
شجر کو ہے پریشانی زیادہ
ہوا لگتی ہے دیوانی زیادہ
چرا لے جائیں گے شب کے مسافر
ہمی کو گرد کی خلعت ملی ہے
ہمی نے خاک بھی چھانی زیادہ
بجھی آنکھوں میں کوئی کیسے دیکھے
تأسف ہے کہ حیرانی زیادہ
یہ پختہ عمر کے سجدے بھی کیا ہیں
عبادت کم، پشیمانی زیادہ
نہیں گر روشنی خوشبو ہی اترے
مہک اے رات کی رانی! زیادہ
ہمی اب بیٹھ کر پچھتا رہے ہیں
ہمی نے دل کی تھی مانی زیادہ
کبھی تھا پیراہن پتوں کا واجدؔ
مگر اب کے ہے عریانی زیادہ
واجد امیر
No comments:
Post a Comment