صفحات

Sunday, 8 January 2017

لوٹ آئیں تیرے لمس سے مہکی ہوئی شامیں

لوٹ آئیں تیرے لمس سے مہکی ہوئی شامیں
پھر آگ لگا دی تیری سانسوں نے ہوا میں
رقصاں ہیں اسی لے پہ ستارے ہوں کے شبنم
کیا سحر ہے اس دل کے دھڑکنے کی صدا میں
اک نور کا سیلاب ہے بند آنکھوں کے اندر
لپٹے ہوئے چہرے ہیں اندھیرے کی ردا میں
کس آگ نے رکھا ہے قدم دل کی زمین پر
سورج سے دمکتے ہیں نشانِ کفِ پا میں
اس خوف سے اک عمر ہمیں نیند نہ آئی
اک چور چھپا بیٹھا ہے سینے کی گُفا میں
جاگ اٹھا ہے دل میں کوئی سویا ہوا وحشی
ہم گھر میں ہیں شہزؔاد کہ جنگل کی فضا میں

شہزاد احمد

No comments:

Post a Comment