لوٹ آئیں تیرے لمس سے مہکی ہوئی شامیں
پھر آگ لگا دی تیری سانسوں نے ہوا میں
رقصاں ہیں اسی لے پہ ستارے ہوں کے شبنم
کیا سحر ہے اس دل کے دھڑکنے کی صدا میں
اک نور کا سیلاب ہے بند آنکھوں کے اندر
کس آگ نے رکھا ہے قدم دل کی زمین پر
سورج سے دمکتے ہیں نشانِ کفِ پا میں
اس خوف سے اک عمر ہمیں نیند نہ آئی
اک چور چھپا بیٹھا ہے سینے کی گُفا میں
جاگ اٹھا ہے دل میں کوئی سویا ہوا وحشی
ہم گھر میں ہیں شہزؔاد کہ جنگل کی فضا میں
شہزاد احمد
No comments:
Post a Comment