صفحات

Sunday, 8 January 2017

چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کی

چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کی
بولتی ہے تو بدل جاتی ہے رنگت اس کی
آنکھ رکھتے ہو تو اس آنکھ کی تحریر پڑھو
منہ سے اقرار نہ کرنا تو ہے عادت اس کی
ہے ابھی لمس کا احساس مِرے ہونٹوں پر
ثبت پھیلی ہوئی بانہوں پہ حرارت اس کی
وہ اگر جا بھی چکی ہے تو نہ آنکھیں کھولو
ابھی محسوس کیۓ جاؤ رفاقت اس کی
وہ کبھی آنکھ بھی جھپکے تو لرز جاتا ہوں
مجھ کو اس سے بھی زیادہ ہے ضرورت اس کی
وہ کہیں جان نہ لے ریت کا ٹیلہ ہوں میں
میرے کاندھوں پہ ہے تعمیر عمارت اس کی
بے طلب جینا بھی شہزؔاد طلب ہے اس کی
زندہ رہنے کی تمنا بھی شرارت اس کی

شہزاد احمد

No comments:

Post a Comment