صفحات

Saturday, 7 January 2017

مقدر نے کچھ اس انداز سے دست ہنر رکھا

مقدر نے کچھ اس انداز سے دستِ ہنر رکھا
کہ ہم کو مبتلائے کاروبارِ چشمِ تر رکھا
میں جس کو رات دن خورشیدِ عالم تاب کہتا تھا
مجھے اس نے سدا جیسے غبارِ رہگزر رکھا
تعلق اس نے یوں مجھ سے باندازِ دگر رکھا
کہ میرے سامنے ہر روز اک تازہ سفر رکھا
بڑا نادان ہے تحقیق کی خو چھوڑ دی جس نے
سماعت کو مقفل، اور نِگہ کو بے بصر رکھا
کہیں اوجِ ثریا کی حدوں کو پار نہ کر لوں
اسی اک خوف سے اس نے مجھے بے بال و پر رکھا
مِری آنکھوں میں لکھا ہے کہ میں کل شب نہیں سویا
تمہارے خواب کو آنکھوں میں میں نے رات بھر رکھا
’’تمہارے سارے غم اے کاش اپنے سر میں لے لیتی‘‘
یہ کہہ کر اس نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھا

عبدالرحمان واصف

No comments:

Post a Comment