بیٹھ آ وصل میں ٹک لطف اٹھانے دے مجھے
اے تِرے پاؤں پڑوں ہاتھ لگانے دے مجھے
سرگزشت آتے ہی کیا پوچھے ہے اے میری جان
سب سناؤں گا تجھے آپ میں آنے دے مجھے
مجھ سے پوچھے ہے بگڑ کر وہ حقیقت میری
نہ رہا وہ بھی مزہ ہائے فلک ہے وہ عدو
کہ نہ رنجش کا بھی کچھ لطف اٹھانے دے مجھے
تُو بھی پھر پوچھیو جرأت سبب حیرانی
پہلے آئینہ ذرا اس کو دِکھانے دے مجھے
قلندر بخش جرأت
No comments:
Post a Comment