دردِ فرقت ہے نہ ہاں منہ سے نہ ہوں نکلے ہے
آہ کے ساتھ جگر سے مِرے خوں نکلے ہے
سر ہتھیلی پہ دھرے پھرتے ہیں اس دم عاشق
لے بکف تیغ جو وہ کھا کے جنوں نکلے ہے
ایک عالم کے کیا اس نے ہے دل کو تسخیر
ناخنِ پا کو تِرے دیکھ کے اے رشکِ قمر
مہِ نو چرخ پہ ہو فرقِ نگوں نکلے ہے
غیر تو خوش تِرے کوچے میں ہیں پھرتے چلتے
ایک یہ عاشقِ با حالِ زبوں نکلے ہے
ہم نشیں عشق میں اس بت کے بقولِ ظفؔر اب
آہ کے ساتھ جگر سے مِرے خوں نکلے ہے
بہادر شاہ ظفر
No comments:
Post a Comment