صفحات

Tuesday, 10 January 2017

درد فرقت ہے نہ ہاں منہ سے نہ ہوں نکلے ہے

دردِ فرقت ہے نہ ہاں منہ سے نہ ہوں نکلے ہے
آہ کے ساتھ جگر سے مِرے خوں نکلے ہے
سر ہتھیلی پہ دھرے پھرتے ہیں اس دم عاشق
لے بکف تیغ جو وہ کھا کے جنوں نکلے ہے
ایک عالم کے کیا اس نے ہے دل کو تسخیر
آہ کیا جادو یہ کیا چڑھ کے فسوں نکلے ہے
ناخنِ پا کو تِرے دیکھ کے اے رشکِ قمر
مہِ نو چرخ پہ ہو فرقِ نگوں نکلے ہے
غیر تو خوش تِرے کوچے میں ہیں پھرتے چلتے
ایک یہ عاشقِ با حالِ زبوں نکلے ہے
ہم نشیں عشق میں اس بت کے بقولِ ظفؔر اب
آہ کے ساتھ جگر سے مِرے خوں نکلے ہے

بہادر شاہ ظفر

No comments:

Post a Comment