کل گریزاں جو وہ تجدیدِ ملاقات سے تھا
رنج اس شخص کو جانے مِری کس بات سے تھا
اب اگر یاد بھی کرتا ہوں تو کانپ اٹھتا ہوں
کس قدر ربط مجھے اس کی عنایات سے تھا
خود مجھے حوصلۂ عرضِ تمنا نہ ہوا
تم ہی کچھ شکوہ کناں گردشِ دوراں سے نہ تھے
کچھ گِلہ مجھ کو بھی بے مہرئ حالات سے تھا
ناشناسا کہ طرح آج جو ملتا ہے مجھے
اک تعلق سا کبھی اس کو مِری ذات سے تھا
عشق میں خوار و زبوں تم ہی نہیں ہو ناصرؔ
میر صاحب کا تعلق بھی تو سادات سے تھا
ناصر زیدی
No comments:
Post a Comment