صفحات

Saturday, 7 January 2017

پکارتا ہوں تو جانے کہاں سے آتے ہیں

پکارتا ہوں تو جانے کہاں سے آتے ہیں
وہ ہاتھ مجھ کو بچانے کہاں سے آتے ہیں
امید کیسے جزیرے تلاش کرتی ہے
سمندروں میں ٹھکانے کہاں سے آتے ہیں
زمین اپنے خزانے لٹاتی رہتی ہے
مگر زمیں میں خزانے کہاں سے آتے ہیں
سخن میں کس طرح آتے ہیں عکس خوشبو کے
نظر میں آئینہ خانے کہاں سے آتے ہیں
کہاں سے آتے ہیں شاخوں پہ برگ و گل فیصل
شجر کو رنگ بنانے کہاں سے آتے ہیں

فیصل عجمی

No comments:

Post a Comment