پکارتا ہوں تو جانے کہاں سے آتے ہیں
وہ ہاتھ مجھ کو بچانے کہاں سے آتے ہیں
امید کیسے جزیرے تلاش کرتی ہے
سمندروں میں ٹھکانے کہاں سے آتے ہیں
زمین اپنے خزانے لٹاتی رہتی ہے
سخن میں کس طرح آتے ہیں عکس خوشبو کے
نظر میں آئینہ خانے کہاں سے آتے ہیں
کہاں سے آتے ہیں شاخوں پہ برگ و گل فیصل
شجر کو رنگ بنانے کہاں سے آتے ہیں
فیصل عجمی
No comments:
Post a Comment