Saturday, 7 January 2017

مجھ کو یہ فکر کب ہے کہ سایہ کہاں گیا

مجھ کو یہ فکر کب ہے کہ سایہ کہاں گیا
سورج کو رو رہا ہوں خدایا کہاں گیا
پھر آئینے میں خون دکھائی دیا مجھے
آنکھوں میں آ گیا تو چھپایا کہاں گیا
آواز دے رہا تھا کوئی مجھ کو خواب میں
لیکن خبر نہیں کہ بلایا کہاں گیا
کتنے چراغ گھر میں جلائے گئے نہ پوچھ
گھر آپ جل گیا ہے، جلایا کہاں گیا
یہ بھی خبر نہیں ہے کہ ہمراہ کون ہے
پوچھا کہاں گیا ہے، بتایا کہاں گیا
وہ بھی بدل گیا ہے مجھے چھوڑنے کے بعد
مجھ سے بھی اپنے آپ میں آیا کہاں گیا
تجھ کو گنوا دیا ہے مگر اپنے آپ کو
برباد کر دیا ہے، گنوایا کہاں گیا

فیصل عجمی

No comments:

Post a Comment