عارفانہ کلام نعتیہ کلام
محمدﷺ مصطفیٰ گنجِ سعادت کے امیں تم ہو
شفیع المذنبیںﷺ ہو، رحمتہ للعالمیںﷺ تم ہو
ہوئی تکمیل دیں تم سے کہ ختم المرسلیں تم ہو
رسالت ہے اگر انگشتری، اس کے نگیں تم ہو
نہ ہوتے تم تو عرش و فرش کا نقشہ نہ جم سکتا
مبرا کر دیا تم نے خدا کو ذمے داری سے
کہ ختم حجتِ حق کی نشانی بالیقیں تم ہو
نمک داں خوانِ ہستی کا تمہارا حسنِ دلکش ہے
خدا جس پر ہوا سو جاں سے شیدا وہ حسیں تم ہو
تمہاری یاد ہو جس دل میں ایسے دل کا کیا کہنا
مکاں ہو گا عجب ہی شان کا، جس کے مکیں تم ہو
ہوئی کافور ظلمت کفر کی جس کی شعاعوں سے
زمانہ پر یہ روشن ہے کہ وہ مہر مبیں تم ہو
ہوا اسلام کا شرمندۂ احساں جہاں سارا
ہر اک اقلیم پر برسا گئے درِ ثمیں تم ہو
لقب خیر الامم جس کو دیا تاریخ عالم نے
اس امت کے نگہباں اس زمانہ میں تمہیں تم ہو
مسلمانو! خدا کا فضل اس سے بڑھ کے کیا ہو گا
رسول اﷲ کا خرمن ہے جس کے خوشہ چیں تم ہو
تمہارا عروة الوثقیٰ ہے وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللہ
پھر اس رسی کو یارو تھام لیتے کیوں نہیں تم ہو
اخوت کا سبق تم کو پڑھایا ہے پیمبرﷺ نے
مگر دل میں لیے پھرتے نفاق و بغض و کیں تم ہو
مولانا ظفر علی خان
No comments:
Post a Comment