صفحات

Sunday, 1 January 2017

قدموں سے پھوٹتی ہے چمک ماہتاب کی

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

قدموں سے پھوٹتی ہے چمک ماہتاب کی 
دہلیز پر کھڑا ہوں رسالت مآبﷺ کی
ہے چہرۂ رسولﷺ نگاہوں کے سامنے 
تفسیر پڑھ رہا ہوں ام الکتاب کی
اس وادئ بہارِ کا دامن ہے ہاتھ میں 
مٹی ہے جس کے سامنے خوشبو گلاب کی
مجھ بے نوا فقیر کی آنکھیں سوال ہیں
خیرات مانگتی ہے سماعت جواب کی
گھر جس کو پانیوں پہ بنانے سکھاۓ تھے
رلتی ہے ساحلوں پر وہ امت جناب کی
روضے کی جالیوں سے جکڑ لیجے مجھے
زنجیر کاٹ دیجے میرے اضطراب کی
سویا ہوا ہوں آپؐ کے قدموں کی خاک پر
تعبیر بھی ہو کاش یہی میرے خواب کی
سانسیں ہیں پل صراط مظفرؔ کے واسطے
دنیا بھی اک مثال ہے روزِ حساب کی

مظفر وارثی

No comments:

Post a Comment