جیون میں دائمی سی کوئی شام کر گیا
وہ رَت جگے ابد کے مِرے نام کر گیا
تصویر تھی جو آنکھ کے پردے پہ رہ گئی
اک عکسِ خاص تھا وہ جسے عام کر گیا
حرفِ وفا کو حرفِ غلط کہہ کے ایک شخص
کتنے ہی زخم خود مِرے دامن میں آ گئے
ہر اک خوشی کو صورتِ آلام کر گیا
اک چاند تھا جو روح کے صحرا میں کھو گیا
اک درد تھا وہ جس کو لبِ بام کر گیا
شاہیؔن جس کا نام ہی بس میرا نام تھا
جاتے ہوۓ وہ کیوں مجھے گمنام کر گیا
نجمہ شاہین کھوسہ
No comments:
Post a Comment