صفحات

Saturday, 7 January 2017

جس کے خیال نے کیا سب سے جدا مجھے

جس کے خیال نے کیا سب سے جدا مجھے
زخموں سے کر گیا ہے وہی آشنا مجھے
الجھی رہی میں ایک ہی رستے میں رات دن
زنداں کے وسط میں کوئی دفنا گیا مجھے
چلنا ہے آندھیوں میں سنبھل کر تمام رات
ہاتھوں میں دے گیا ہے جلتا دِیا مجھے
جس راستے میں خار ہیں پتھر ہیں دھول ہے
اس راہ پر ہی لے کر چلی ہے ہوا مجھے
رہبر سمجھ کر جس کے کبھی ساتھ میں چلی
شاہیؔن اس نے راہ میں الجھا دیا مجھے

نجمہ شاہین کھوسہ

No comments:

Post a Comment