صفحات

Friday, 13 January 2017

اک خانماں خراب کی دولت کہیں جسے

اک خانماں خراب کی دولت کہیں جسے
وہ درد دل میں ہے کہ محبت کہیں جسے
رعنائیِ خیال کے قربان جائیے 
صورت ہے وہ نظر میں حقیقت کہیں جسے
دردِ فراقِ یار کی مجبوریاں بجا 
اتنا تو ہو نہ شور، قیامت کہیں جسے
دے سکتا ہو تو دے مجھے دادِ ستم کشی 
یا وہ سلوک کر کہ عداوت کہیں جسے
لذت کشِ نظارہ ہے تیری نظر، تو کیا
اتنی تو بیخودی ہو کہ حیرت کہیں جسے
باقی کہاں ہے رازؔ زمانے میں آج کل 
وہ حسنِ دل نواز، محبت کہیں جسے

راز چاند پوری

No comments:

Post a Comment