صفحات

Friday, 13 January 2017

کنج عزلت سے زیادہ کہیں آرام نہیں

کنجِ عزلت سے زیادہ کہیں آرام نہیں
یہ وہ دنیا ہے جہاں صبح نہیں شام نہیں
میری تقدیر، اسیرِ غمِ ایام ہوں میں
اس میں کچھ شائبۂ گردشِ ایام نہیں
آرزوؤں نے پریشان بنا رکھا ہے
جسم آرام میں ہے، روح کو آرام نہیں
میری ناکامئ تدبیر پہ ہنسنے والے
اور تو کیا کہوں، ناکام ہوں خود کام نہیں
کیا حسیں اور نہیں کوئی زمانہ بھر میں
لیکن اے دوست! مِرا حسنِ نظر عام نہیں
دیکھ لیتا ہوں جہاں بھی تُو نظر آتا ہے
شکر، صد شکر، کہ سرگشتۂ اوہام نہیں
راؔز کیا یاد نہیں تجھ کو وہ پیمانِ ازل
حیف! عشاق کے دفتر میں تِرا نام نہیں

راز چاند پوری

No comments:

Post a Comment