صفحات

Friday, 13 January 2017

تو مجھ سے بات نہ کر اتنے سخت لہجے میں

تُو مجھ سے بات نہ کر اتنے سخت لہجے میں
میں خود مثال ہوں اپنی کرخت لہجے میں
ابھی تلک مِرے لہجے میں خاکساری ہے
ابھی میں لایا نہیں تاج و تخت لہجے میں
ابھی ابھی تو تِرا لہجہ دھوپ ایسا تھا
کہاں سے اُگ پڑے اتنے درخت لہجے میں
دِیے کو بھی میں پکاروں تو ٹمٹما کے بجھے
وہ تیرگی ہے مِرے تیرہ بخت لہجے میں
شکستہ لہجے میں کس نے مجھے پکارا ہے
میں لخت لخت ہوا، لخت لخت لہجے میں

سعید دوشی

No comments:

Post a Comment