ہر قدم زحمتیں ہر نفس الجھنیں زندگی وقف ہے دردِ سر کے لیے
پہلے اپنے ہی درماں کا غم تھا ہمیں اب دوا چاہیۓ چارہ گر کے لیے
آج اک اجنبی سے نگاہیں ملیں صرف اک لمحۂ مختصر کے لیے
زندگی اس طرح مطمئن ہو گئی جیسے کچھ پا لیا عمر بھر کے لیے
رائیگاں کیجیے آپ سجدے مرے، میرا کیا ہے میں اٹھ کر چلا جاؤں گا
میں نے بخشی ہے تاریکیوں کو ضیا اور خود اک تجلی کا محتاج ہوں
روشنی دینے والے کو بھی کم سے کم اک دِیا چاہیۓ اپنے گھر کے لیے
اے شکیلؔ انکی محفل میں بھی کیا ملا، اور کچھ بڑھ گئیں دل کی بیتابیاں
سب کی جانب رہی وہ نگاہِ کرم ، ہم ترستے رہے اک نظر کے لیے
شکیل بدایونی
No comments:
Post a Comment