کس درجہ حسیں تھا مِرے ماحول کا غم بھی
میں بھول گیا آپ کا اندازِ ستم بھی
الجھے ہوئے لمحات کے تاریک سفر میں
آئے ہیں بہت یاد تِری زلف کے خم بھی
اک لمحہ تو دم لینے دے آغوشِ سکوں میں
پلکوں پہ سجائے ہوئے زخموں کے نگینے
گزریں گے کسی روز تِرے شہر سے ہم بھی
کیوں درد کی قندیل جلائے کوئی دل میں
حالات کی تلخی تو زیادہ بھی ہے کم بھی
منظر تو ذرا دیکھئے رسوائیِ فن کا
بِکنے لگے بازار میں اربابِ قلم بھی
کچھ دیر تو پھُوٹا ہے لہو میری جبیں سے
کچھ دیر تو چمکے گا تِرا سنگِ حرم بھی
اک عمر جسے ذہن نے پوجا ہے بہر طور
محسؔن وہ ستم کیش، خدا بھی تھا صنم بھی
محسن نقوی
No comments:
Post a Comment