صفحات

Sunday, 8 January 2017

کس درجہ حسیں تھا مرے ماحول کا غم بھی

کس درجہ حسیں تھا مِرے ماحول کا غم بھی
میں بھول گیا آپ کا اندازِ ستم بھی
الجھے ہوئے لمحات کے تاریک سفر میں
آئے ہیں بہت یاد تِری زلف کے خم بھی
اک لمحہ تو دم لینے دے آغوشِ سکوں میں
اے گردشِ حالات! کسی موڑ پہ تھم بھی
پلکوں پہ سجائے ہوئے زخموں کے نگینے
گزریں گے کسی روز تِرے شہر سے ہم بھی
کیوں درد کی قندیل جلائے کوئی دل میں
حالات کی تلخی تو زیادہ بھی ہے کم بھی
منظر تو ذرا دیکھئے رسوائیِ فن کا
بِکنے لگے بازار میں اربابِ قلم بھی
کچھ دیر تو پھُوٹا ہے لہو میری جبیں سے
کچھ دیر تو چمکے گا تِرا سنگِ حرم بھی
اک عمر جسے ذہن نے پوجا ہے بہر طور
محسؔن وہ ستم کیش، خدا بھی تھا صنم بھی

محسن نقوی

No comments:

Post a Comment