صفحات

Sunday, 8 January 2017

یہ فاصلہ جو پڑا ہے میرے گماں میں نہ تھا

یہ فاصلہ جو پڑا ہے میرے گماں میں نہ تھا 
کہ اب کی بار زمانہ بھی درمیاں میں نہ تھا
کوئی بھی نظمِ چمن ہو یہ ہم نے دیکھا ہے 
سحر کا نغمہ سرا، شام آشیاں میں نہ تھا
کہ جس کے ہاتھ میں پتھر کماں ہو تیر نہ ہو 
کوئی بھی ایسا مِرے شہرِ مہرباں میں نہ تھا
دہکتی دھوپ میں خلقت تھی گوش بر آواز 
بجز خطیب مگر کوئی سائباں میں نہ تھا
دعائیں میں نے ہی مانگی تھیں رت بدلنے کی 
فراؔز میرا نشیمن ہی گلستاں میں نہ تھا

احمد فراز

No comments:

Post a Comment