یہ فاصلہ جو پڑا ہے میرے گماں میں نہ تھا
کہ اب کی بار زمانہ بھی درمیاں میں نہ تھا
کوئی بھی نظمِ چمن ہو یہ ہم نے دیکھا ہے
سحر کا نغمہ سرا، شام آشیاں میں نہ تھا
کہ جس کے ہاتھ میں پتھر کماں ہو تیر نہ ہو
دہکتی دھوپ میں خلقت تھی گوش بر آواز
بجز خطیب مگر کوئی سائباں میں نہ تھا
دعائیں میں نے ہی مانگی تھیں رت بدلنے کی
فراؔز میرا نشیمن ہی گلستاں میں نہ تھا
احمد فراز
No comments:
Post a Comment