صفحات

Monday, 9 January 2017

نہ یہ رنگ طبع ہوتا نہ یہ دل میں جوش ہوتا

نہ یہ رنگ طبع ہوتا نہ یہ دل میں جوش ہوتا
یہ جنوں اگر نہ ہوتا تو کہاں یہ ہوش ہوتا
غمِ دہر سے بچاتا ہے بشر کو مست رہنا
مجھے شاعری نہ آتی تو میں بادہ نوش ہوتا
تمہیں دیکھ سن کے فطرت نے یہ نقش کھینچے ورنہ
نہ یہ ہوتی چشمِ نرگس نہ یہ گل کا گوش ہوتا
دل و دِیں ہیں سب کے صدقے جو وہ خودنما بنا ہے
کوئی زندہ ہی نہ رہتا جو وہ خود فروش ہوتا
نہ ابھارتا جو گردوں تو وہ کیوں یہ ظلم کرتے
کچھ اثر فغاں میں ہوتا تو میں کیوں خموش ہوتا
حسن نظامی اکبرؔ کا کلام سن کے بولے
میں تجھے ولی سمجھتا جو خرقہ پوش ہوتا

اکبر الہ آبادی

No comments:

Post a Comment