نہ یہ رنگ طبع ہوتا نہ یہ دل میں جوش ہوتا
یہ جنوں اگر نہ ہوتا تو کہاں یہ ہوش ہوتا
غمِ دہر سے بچاتا ہے بشر کو مست رہنا
مجھے شاعری نہ آتی تو میں بادہ نوش ہوتا
تمہیں دیکھ سن کے فطرت نے یہ نقش کھینچے ورنہ
دل و دِیں ہیں سب کے صدقے جو وہ خودنما بنا ہے
کوئی زندہ ہی نہ رہتا جو وہ خود فروش ہوتا
نہ ابھارتا جو گردوں تو وہ کیوں یہ ظلم کرتے
کچھ اثر فغاں میں ہوتا تو میں کیوں خموش ہوتا
حسن نظامی اکبرؔ کا کلام سن کے بولے
میں تجھے ولی سمجھتا جو خرقہ پوش ہوتا
اکبر الہ آبادی
No comments:
Post a Comment