صفحات

Monday, 9 January 2017

چمن کی یہ کیسی ہوا ہو گئی

چمن کی یہ کیسی ہوا ہو گئی
کہ صرصر سے بدتر صبا ہو گئی
عیادت کو آئے شفا ہو گئی
علالت ہماری دوا ہو گئی
وہ اٹھے تو لاکھوں ہی فتنے اٹھے
چلے تو قیامت بپا ہو گئی
محبت کی گرمی بھی کیا چیز ہے
طبیعت مِری کیا سے کیا ہو گئی
لگاوٹ بہت ہے تیری آنکھ میں
اسی سے تو یہ فتنہ زا ہو گئی
بتوں نے بھُلایا جو دل سے مجھے
مِرے ساتھ یادِ خدا ہو گئی
انہیں نے عطا کی تھی جانِ حزیں
ہوا خوب انہیں پر فدا ہو گئی
بتوں کو محبت نہ ہوتی مِری
خدا کا کرم ہو گیا، ہو گئی
اشارہ کیا بیٹھنے کا مجھے
عنایت کی آج انتہا ہو گئی
دوا کیا کہ وقتِ دعا بھی نہیں
تِری حالت اکبؔر یہ کیا ہو گئی

اکبر الہ آبادی

No comments:

Post a Comment