صبر کیا آئے مجھے سانس بہ مشکل آئے
تُو تو انسان ہے پتھر پہ اگر دل آئے
کس قدر تھی نگہِ شوق کو قاتل کی تلاش
جب نظر مجھ کو فرشتے دمِ بسمل میں آئے
ہائے وہ جان بچانے کا زمانہ نہ رہا
خواب میں بھی کبھی تنہا نہیں دیکھا تجھ کو
دل میں بھی آئے تو اغیار کے شامل آئے
غیر معشوق ہو تجھ سا بھی تو الفت نہ کروں
ایسا آنا ہے تو مجھ پر ہی مِرا دل آئے
اس نزاکت پہ گئے غیر کے گھر چین سے تم
ہم اگر آپ میں آئے تو بمشکل آئے
مل گئے راہ میں مجھ کو یہ بڑی خیر ہوئی
لوگ جو دیکھنے شب کو تِری محفل آئے
کہا کہیں کس سے کہیں جا کے وہاں کیا گزری
یار کہتے ہیں مبارک ہو تمہیں مل آئے
جس کو ہوا داغؔ بہت حسن و شجاعت پہ غرور
میرے نواب بہادر کے مقابل آئے
داغ دہلوی
No comments:
Post a Comment