صفحات

Tuesday, 10 January 2017

خدا کرے مرے دل کو ٹک اک قرار آوے

خدا کرے مِرے دل کو ٹک اک قرار آوے
کہ زندگی تو کروں جب تلک کہ یار آوے
کمانیں اسکی بھوؤں کی چڑھی ہی رہتی ہیں
نہ جب تلک سرِ تیرِ ستم شکار آوے
ہمیں تو ایک گھڑی گل بغیر دو بھر ہے
خدا ہی جانے کہ اب کب تلک بہار آوے
اٹھی بھی گردِ رہ اسکی کہیں تو لطف ہے کیا
جب انتظار میں آنکھوں ہی پر غبار آوے
ہر ایک شے کا ہے موسم نہ جانے تھا منصور
کہ نخلِ دار میں حلق بریدہ بار آوے
تمہارے جوروں سے اب حال جائے عبرت ہے
کسو سے کہیئے تو اس کو نہ اعتبار آوے
نہیں ہے چاہ بھلی اتنی بھی دعا کر میؔر
کہ اب جو دیکھوں اسے میں بہت نہ پیار آوے

میر تقی میر

No comments:

Post a Comment