صفحات

Tuesday, 10 January 2017

آ پڑا ہوں نا امیدی کے کھلے میدان میں

آ پڑا ہوں نا امیدی کے کھلے میدان میں
کوئی گھر خالی نہیں ہے کوچۂ امکان میں
عام انساں کیا مفکر بھی رہے نقصان میں
بام و در کیا فلسفے بھی اڑ گئے طوفان میں
ہم سمجھتے تھے فقط ہم ہی ہیں اس بحران میں
دیکھ کر بے جان سب کو جان آئی جان میں
ہے مقدس تر شبِ وعدہ سے روزِ انتظار
سچے روزے دار کی تو عید ہے رمضان میں
اپنی غربت کا زیادہ تذکرہ اچھا نہیں
فارسی خود اجنبی لگتی ہو جب ایران میں
شاعری میں گفتگو کے لفظ ہم لائے مگر
پھول جو اصلی تھے مصنوعی لگے گلدان میں
آپ کا انداز رہنا چاہیئے تھا آپ تک
غیر بھی کرتا ہے گستاخی ہماری شان میں
شدتِ تنہائی کی تاریخ گویا دفن ہے
میری تنہا چارپائی کے شکستہ بان میں
ساری دنیا کر رہی ہے اس کی صحرا میں تلاش
اور دیوانہ چھُپا ہے میر کے دیوان میں

شجاع خاور

No comments:

Post a Comment