صفحات

Tuesday, 10 January 2017

سر کو تو قلم ہونا ہے اک بار میاں جی

سر کو تو قلم ہونا ہے اک بار میاں جی
تم صرف سنبھالے رہو دستار میاں جی
اب پھرتے ہو بے یار و مددگار میاں جی
ہاں اور بنو صاحبِ کردار میاں جی
یہ دشت نہیں ہونے کا گلزار میاں جی
رو رو کے جلاؤ نہ یوں بیکار میاں جی
دشمن تو وہیں ذاتِ گرامی میں چھپا تھا
باہر کو گھماتے رہے تلوار میاں جی
دربان کی دھتکار کو دل پر نہیں لینا
پکی ہے اگر خواہشِ دیدار میاں جی
اوروں سے تو لڑنے کیلئے عمر پڑی ہے
خود سے بھی تو کیجئے تکرار میاں جی
آئینے میں وہ سامنے ہے آپ کا دشمن
ہمت ہے تو کر دیجئے یلغار میاں جی
دیوانے بیاباں میں نہیں گھر میں پڑے ہیں
سب قربِ قیامت کے ہیں آثار میاں جی
بندہ تو بہرحال گنہ گار ہے لیکن
قہار ہے جو ہے وہی غفار میاں جی
جس قادرِ مطلق نے تمہیں پیدا کیا ہے
اس نے ہی بنائے ہیں یہ کفار میاں جی
بے عشق ہو، آرام سے کرتے ہو نصیحت
اللہ کرے تم بھی ہو بیمار میاں جی
غیروں کے رویے پہ یہ ناراضگی کیسی
اپنے بھی تو کرتے ہیں تمہیں خوار میاں جی
ظاہر ہے کہ وہ قول کے پکے ہیں کہ جن کو
غلطی پہ نظر آتے ہیں ہر بار میاں جی

شجاع خاور

No comments:

Post a Comment