صفحات

Tuesday, 10 January 2017

ایک رنگیں نقاب نے مارا

ایک رنگیں نقاب نے مارا
حسن بن کر حجاب نے مارا
جلوۂ آفتاب کیا کہیئے
سایۂ آفتاب نے مارا
نگۂ شوق و دعوئ دیدار
اس حجاب الحجاب نے مارا
اپنے سینے ہی پر پڑا اکثر
تیر جو اضطراب نے مارا
ہم نہ مرتے تِرے تغافل سے
پُرسشِ بے حساب نے مارا
لذتِ دید بے جمال نہ پوچھ
دردِ بے اضطراب نے مارا
چھپتے ہیں اور چھپا نہیں جاتا
اس ادائے حجاب نے مارا
حشر تک ہم نہ مرنے والوں کو
مرگِ نا کامیاب نے مارا
پاتے ہی اک اشارۂ نازک
دم نہ پھر اضطراب نے مارا
دل کہ تھا جانِ زیست آہ جگرؔ
اسی خانہ خراب نے مارا

جگر مراد آبادی

No comments:

Post a Comment