ستمِ کامیاب نے مارا
کرمِ لاجواب نے مارا
خود ہوئی گم ہمیں بھی کھو بیٹھی
نگاہِ بازیاب نے مارا
زندگی تھی حجاب کے دم سے
عشق کے ہر سکونِ آخر کو
حسن کے اضطراب نے مارا
خود نظر بن گئے حجابِ نظر
ہائے اس بے حجاب نے مارا
میں تِراعکس ہوں کہ تُو میرا
اس سوال و جواب نے مارا
کوئی پوچھے کہ رہ کے پہلو میں
تیر کیا اضطراب نے مارا
بچ رہا جو تیری تجلی سے
اس کو تیرے حجاب نے مارا
اب نظر کو کہیں قرار نہیں
کاوش انتخاب نے مارا
سب کو مارا جگر کے شعروں نے
اور جگر کو شراب نے مارا
جگر مراد آبادی
No comments:
Post a Comment