صفحات

Sunday, 1 January 2017

طلب کی اگ کسی شعلہ رو سے روشن ہے

طلب کی اگ کسی شعلہ رو سے روشن ہے 
خیال ہو کہ نظر، آرزو سے روشن ہے
جنم جنم کے اندھیروں کو دے رہا ہے شکست 
وہ اک چراغ کہ اپنے لہو سے روشن ہے
کہیں ہجومِ حوادث میں کھو کے رہ جاتا
جمالِ یار مِری جستجو سے روشن ہے
یہ تابشِ لبِ لعلیں، یہ شعلۂ آواز
تمام بزم تِری گفتگو سے روشن ہے
وصالِ یار تو ممکن نہیں مگر ناصح 
رخِ حیات اسی آرزو سے روشن ہے

قابل اجمیری

No comments:

Post a Comment