صفحات

Sunday, 1 January 2017

قربان اپنی لغزش مستانہ وار کے

قربان اپنی لغزشِ مستانہ وار کے 
سائے قریب آ گئے دیوارِ یار کے
میرے جنوں کو زندگئ مستعار کے 
دو دن بھی قبول ہیں مگر اختیار کے
اے آفتابِ صبحِ بہاراں! سلام کر
دیوانے آ رہے ہیں شبِ غم گزار کے
ہم تیری انجمن سے اٹھے بھی نہ تھے ابھی 
آنے لگے سلام غمِ روزگار کے
خنداں نہیں، مہک نہیں، رعنائیاں نہیں 
قابلؔ یہ پھول ہیں، یا جنازے بہار کے

قابل اجمیری

No comments:

Post a Comment