قربان اپنی لغزشِ مستانہ وار کے
سائے قریب آ گئے دیوارِ یار کے
میرے جنوں کو زندگئ مستعار کے
دو دن بھی قبول ہیں مگر اختیار کے
اے آفتابِ صبحِ بہاراں! سلام کر
ہم تیری انجمن سے اٹھے بھی نہ تھے ابھی
آنے لگے سلام غمِ روزگار کے
خنداں نہیں، مہک نہیں، رعنائیاں نہیں
قابلؔ یہ پھول ہیں، یا جنازے بہار کے
قابل اجمیری
No comments:
Post a Comment