صفحات

Sunday, 1 January 2017

جائیں گے وہیں خوش دل دیوانہ جہاں ہو

جائیں گے وہیں، خوش دلِ دیوانہ جہاں ہو
گھر لیں گے وہیں اب کے پری خانہ جہاں ہو
پانی کے عوض مستیٔ رنگیں ہو برستی
پر اتنے ہی ٹکڑے پہ کہ مے خانہ جہاں ہو
پھر دیکھیۓ بد مستئ ارمانِ ہوس کار
فردوسِ نظر، نرگسِ مستانہ جہاں ہو
ہو گی کوئی جنت، مِری جنت تو وہی ہے
خُم خانہ و مے خانہ و پیمانہ جہاں ہو
منہ چوم نہ لے پھول کے دھوکے میں تمہارا
جانا نہ وہاں، بلبلِ دیوانہ جہاں ہو
اے حشؔر! مِرے شعر ہیں مستی کا ترانہ
پڑھنا یہ غزل،۔ محفلِ رِندانہ جہاں ہو

آغا حشر کاشمیری

No comments:

Post a Comment