تا کجا شورشِ فریاد نہ آئے لب تک
صبر اک شے ہے مگر پھر بھی کہاں تک، کب تک
جلوہ آنکھوں کو دکھاؤ گے یہ مانا میں نے
پر یہ روتا ہے کہ آنکھیں ہی نہ ہوں گی تب تک
رحم کر دردِ جگر! جان نکل جائے گی
مر گیا حشرؔ تو اس کی نہیں حیرت مجھ کو
میں تو حیران ہوں زندہ رہا کیوں کر اب تک
آغا حشر کاشمیری
No comments:
Post a Comment