صفحات

Sunday, 1 January 2017

تا کجا شورش فریاد نہ آئے لب تک

تا کجا شورشِ فریاد نہ آئے لب تک
صبر اک شے ہے مگر پھر بھی کہاں تک، کب تک
جلوہ آنکھوں کو دکھاؤ گے یہ مانا میں نے
پر یہ روتا ہے کہ آنکھیں ہی نہ ہوں گی تب تک
رحم کر دردِ جگر! جان نکل جائے گی
یوں ہی آئے گا جو کھنچ کھنچ کے کلیجا لب تک
مر گیا حشرؔ تو اس کی نہیں حیرت مجھ کو
میں تو حیران ہوں زندہ رہا کیوں کر اب تک

آغا حشر کاشمیری

No comments:

Post a Comment