شاید اس کا نامۂ رنگیں اک دن چمکے دستِ صبا میں
شاید کوئی تارا چمکے، فرقت کی گھنگھور گھٹا میں
لاکھ اندھیرے رستہ روکیں، لاکھ بگولے سر ٹکرائیں
آ نکلے ہیں دِیے🪔 جلانے،۔ ہم دیوانے تیز ہوا میں
چاند سے چہرے بجھے بجھے ہیں، قاتل آنکھیں لٹی لٹی ہیں
دیکھا، خونِ تمنا نے بھی، کیسے کیسے روپ دکھائے
ٹپکا میری نوکِ قلم سے، چمکا تیرے رنگِ حنا میں
زخموں کی سوغات لیے ہم صحنِ چمن سے لوٹ آئے ہیں
خوشبوؤں کے تیر چھپے تھے، پھولوں کی زرتاب قبا میں
ہم نے دعائے شام و سحر کا برسوں بعد صِلا یہ پایا
آڑھی ترچھی چند لکیریں، بل کھاتی ہیں دستِ دعا میں
نور بجنوری
No comments:
Post a Comment