یہاں کسی نے چراغِ وفا جلایا تھا
تبھی یہ غم کدۂ دل بھی جگمگایا تھا
جنوں کی شوخ اداؤں نے فاش کر ہی دیا
وہ ایک راز خِرد نے جسے چھپایا تھا
شبِ بہار کی شہ زادیو! خبر ہے تمہیں
سلگ رہی ہیں امنگیں تو سوچتا ہوں میں
بہت ہی خشک تِری زلفوں کا نرم سایا تھا
یہ ماہتاب سے کس نے مجھے صدا دی تھی
یہ کون دور سے میرے قریب آیا تھا
نور بجنوری
No comments:
Post a Comment