صفحات

Friday, 13 January 2017

لاکھ بہلائیں طبیعت کو بہلتی ہی نہیں

لاکھ بہلائیں طبیعت کو، بہلتی ہی نہیں
دل میں اک پھانس چبھی ہے کہ نکلتی ہی نہیں
قاعدہ ہے کہ جو گرتا ہے، سنبھل جاتا ہے
دل کی حالت وہ گری ہے کہ سنبھلتی ہی نہیں
رنگ کیا کیا فلکِ پیر نے بدلے، لیکن
میری تقدیر کہ یہ رنگ بدلتی ہی نہیں
کس کو کہتے ہیں محبت، نہیں معلوم ہمیں
اک تمنا سی ہے جو دل سے نکلتی ہی نہیں

اختر شیرانی

No comments:

Post a Comment