صفحات

Friday, 13 January 2017

اب کیا مثال دوں میں تمہارے شباب کی

فلمی گیت

اب کیا مثال دوں میں تمہارے شباب کی 
انسان بن گئی ہے کرن مہتاب کی 
اب کیا مثال دوں میں تمہارے شباب کی

چہرے میں گھل گیا ہے حسین چاندنی کو نور 
آنکھوں میں ہے چمن کی جواں رات کا سرور 
گردن ہے اک جھکی ہوئی ڈالی، ڈالی گلاب کی 
اب کیا مثال دوں میں تمہارے شباب کی 

گیسو کھلے تو شام کے دل سے دھواں اٹھے 
چھو لے قدم تو نظر آسمان اٹھے 
سو بار جھلملائے شمع، شمع آفتاب کی
اب کیا مثال دوں میں تمہارے شباب کی 

دیوار و در کا رنگ یہ آنچل یہ پیرہن 
در کا میرے چراغ ہے بوٹا سا یہ بدن 
تصویر ہو تم میرے جنت، جنت کے خواب کی 
اب کیا مثال دوں میں تمہارے شباب کی 
انسان بن گئی ہے کرن مہتاب کی 
 اب کیا مثال دوں ۔۔۔

مجروح سلطانپوری

No comments:

Post a Comment