فلمی گیت
اب کیا مثال دوں میں تمہارے شباب کی
انسان بن گئی ہے کرن مہتاب کی
اب کیا مثال دوں میں تمہارے شباب کی
چہرے میں گھل گیا ہے حسین چاندنی کو نور
آنکھوں میں ہے چمن کی جواں رات کا سرور
گردن ہے اک جھکی ہوئی ڈالی، ڈالی گلاب کی
گیسو کھلے تو شام کے دل سے دھواں اٹھے
چھو لے قدم تو نظر آسمان اٹھے
سو بار جھلملائے شمع، شمع آفتاب کی
اب کیا مثال دوں میں تمہارے شباب کی
دیوار و در کا رنگ یہ آنچل یہ پیرہن
در کا میرے چراغ ہے بوٹا سا یہ بدن
تصویر ہو تم میرے جنت، جنت کے خواب کی
اب کیا مثال دوں میں تمہارے شباب کی
انسان بن گئی ہے کرن مہتاب کی
اب کیا مثال دوں ۔۔۔
مجروح سلطانپوری
No comments:
Post a Comment