فلمی گیت
دکھ ہو یا سکھ جب سدا سنگ رہے نا کوئے
پھر دکھ کو اپنائیے کہ جائے تو دکھ نا ہوئے
راہی منوا دکھ کی چنتا کیوں ستاتی ہے
دکھ تو اپنا ساتھی ہے
سکھ ہے اک چھاؤں ڈھلتی آتی ہے جاتی ہے
دکھ تو اپنا ساتھی ہے
راہی منوا دکھ کی چنتا۔۔۔۔۔۔۔
دور ہے منزل دور سہی پیار ہمارا کیا کم ہے
پگ میں کانٹے لاکھ سہی پر یہ سہارا کیا کم ہے
ہمراہ تیرے کوئی اپنا تو ہے
سکھ ہے اک چھاؤں ڈھلتی آتی ہے جاتی ہے
دکھ تو اپنا ساتھی ہے
راہی منوا دکھ کی چنتا کیوں ستاتی ہے
دکھ تو اپنا ساتھی ہے
دکھ ہو کوئی تب جلتے ہیں پتھ کے دیپ نگاہوں میں
اتنی بڑی اس دنیا کی لمبی اکیلی راہوں میں
ہمراہ تیرے کوئی اپنا تو ہے
سکھ ہے اک چھاؤں ڈھلتی آتی ہے جاتی ہے
دکھ تو اپنا ساتھی ہے
راہی منوا دکھ کی چنتا کیوں ستاتی ہے
دکھ تو اپنا ساتھی ہے
مجروح سلطانپوری
شروع کا دوہا شاید بھگت کبیر کا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ مجروح جی نے ہی کہا ہو
No comments:
Post a Comment