صفحات

Friday, 13 January 2017

راہی منوا دکھ کی چنتا کیوں ستاتی ہے دکھ تو اپنا ساتھی ہے

فلمی گیت

دکھ ہو یا سکھ جب سدا سنگ رہے نا کوئے 
پھر دکھ کو اپنائیے کہ جائے تو دکھ نا ہوئے 

راہی منوا دکھ کی چنتا کیوں ستاتی ہے
دکھ تو اپنا ساتھی ہے  
سکھ ہے اک چھاؤں ڈھلتی آتی ہے جاتی ہے 
دکھ تو اپنا ساتھی ہے 
راہی منوا دکھ کی چنتا۔۔۔۔۔۔۔ 

دور ہے منزل دور سہی پیار ہمارا کیا کم ہے 
پگ میں کانٹے لاکھ سہی پر یہ سہارا کیا کم ہے 
ہمراہ تیرے کوئی اپنا تو ہے 
سکھ ہے اک چھاؤں ڈھلتی آتی ہے جاتی ہے 
دکھ تو اپنا ساتھی ہے 
راہی منوا دکھ کی چنتا کیوں ستاتی ہے 
دکھ تو اپنا ساتھی ہے

دکھ ہو کوئی تب جلتے ہیں پتھ کے دیپ نگاہوں میں 
اتنی بڑی اس دنیا کی لمبی اکیلی راہوں میں 
ہمراہ تیرے کوئی اپنا تو ہے 
سکھ ہے اک چھاؤں ڈھلتی آتی ہے جاتی ہے 
دکھ تو اپنا ساتھی ہے 
راہی منوا دکھ کی چنتا کیوں ستاتی ہے 
دکھ تو اپنا ساتھی ہے 

مجروح سلطانپوری


 شروع کا دوہا شاید بھگت کبیر کا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ مجروح جی نے ہی کہا ہو 

No comments:

Post a Comment