وہ دل بھی جلاتے ہیں رکھ دیتے ہیں مرہم بھی
کیا طرف طبیعت ہے شعلہ بھی ہیں شبنم بھی
خاموش نہ تھا دل بھی خوابیدہ نہ تھے ہم بھی
تنہا تو نہیں گزرا تنہائی کا عالم بھی
چھلکا ہے کہیں شیشہ ڈھلکا ہے کہیں آنسو
ہر دل کو لبھاتا ہے غم تیری محبت کا
تیری ہی طرح ظالم دلکش ہے تِرا غم بھی
انکارِ محبت کو توہین سمجھتے ہیں
اظہارِ محبت پر ہو جاتے ہیں برہم بھی
تم رک کے نہیں ملتے ہم جھک کے نہیں ملتے
معلوم یہ ہوتا ہے کچھ تم بھی ہو کچھ ہم بھی
پائی نہ شمیؔم اپنے ساقی کی نظر یکساں
ہر آن بدلتا ہے مے خانے کا موسم بھی
شمیم کرہانی
No comments:
Post a Comment