صفحات

Tuesday, 10 January 2017

ہمیں تھے ایسے سر پھرے ہمیں تھے ایسے منچلے

ہمیں تھے ایسے سر پھرے ہمیں تھے ایسے منچلے 
کہ تیرے غم کی رات میں چراغ کی طرح جلے
ملے کوئی تو پھر مزے نہ زندگی کے پوچھئے 
کٹے جو رات دِیر میں تو مۓ کدے میں دن ڈھلے
کھلی ہوئی ہر اک کلی مہک رہی ہے شاخ پر 
تو کچھ اداس پھول بھی پڑے ہیں شاخ کے تلے
اس انجمن کو کیا ہوا، نہ روشنی، نہ زندگی
چراغ و گل جلے بجھے، دماغ و دل ملے دلے
یہ بات تلخ ہے مگر یہ بات گفتنی بھی ہے 
کہ زاہدانِ خود نگر سے رندِ با صفا بھلے
غروبِ آفتاب پر ستارے مسکرائے ہیں 
کہ اک دِیا بجھا تو کیا، ہزارہا دِیے جلے
شمیؔم منزلِ طلب، قدم کو آ کے چوم لے
اگر قدم کو جوڑ کر تمام کارواں چلے

شمیم کرہانی

No comments:

Post a Comment