ہمیں تھے ایسے سر پھرے ہمیں تھے ایسے منچلے
کہ تیرے غم کی رات میں چراغ کی طرح جلے
ملے کوئی تو پھر مزے نہ زندگی کے پوچھئے
کٹے جو رات دِیر میں تو مۓ کدے میں دن ڈھلے
کھلی ہوئی ہر اک کلی مہک رہی ہے شاخ پر
اس انجمن کو کیا ہوا، نہ روشنی، نہ زندگی
چراغ و گل جلے بجھے، دماغ و دل ملے دلے
یہ بات تلخ ہے مگر یہ بات گفتنی بھی ہے
کہ زاہدانِ خود نگر سے رندِ با صفا بھلے
غروبِ آفتاب پر ستارے مسکرائے ہیں
کہ اک دِیا بجھا تو کیا، ہزارہا دِیے جلے
شمیؔم منزلِ طلب، قدم کو آ کے چوم لے
اگر قدم کو جوڑ کر تمام کارواں چلے
شمیم کرہانی
No comments:
Post a Comment