صفحات

Sunday, 1 January 2017

برزخ اے مری روح تجھے

برزخ

اے مِری روح تجھے
اب یہ برزخ کے شب و روز کہاں راس آئیں
عشق بِپھرا ہوا دریا ہے، ہوس خاکِ سیاہ
دست و بازو نہ سفینہ کہ یہ دریا ہوعبور
اور اس خاکِ سیاہ پر تو نشانِ کف ِپا تک بھی نہیں
اجڑے بے برگ درختوں سے فقط کاسۂ سر آویزاں
کسی سفاک تباہی کی المناک کہانی بن کر
اے مِری روح، جدائی سے حزیں روح مِری
تجھے برزخ کے شب و روز کہاں راس آئیں

روح

میرا ماویٰ نہ جہنم مِرا ملجا نہ بہشت
برزخ ان دونوں پر اک خندۂ تضحیک تو ہے
ایک برزخ ہے جہاں جور و ستم، جود و کرم کچھ بھی نہیں
اس میں وہ نفس کی صرصر بھی نہیں
جسم کے طوفاں بھی نہیں
مبتلا جن میں ہم انسان سدا رہتے ہیں
ہم سیہ بخت زمیں پر ہوں، فلک پر ہوں کہیں
ایک برزخ ہے جہاں مخمل و دیبا کی سی آسودگی ہے
خوابِ سرما کی سی آسودگی ہے

ن م راشد

No comments:

Post a Comment