صفحات

Tuesday, 10 January 2017

چاند ہو بھی تو سمندر نہیں ہونے والا

چاند ہو بھی تو سمندر نہیں ہونے والا 
فریم اس رات کا منظر نہیں ہونے والا
دیکھ لی خاک دھنک چاک فلک دیکھ لیا
میں کسی بات پہ ششدر نہیں ہونے والا
تیس دن تک اسی دیوار پہ لرزے گا یہ عکس 
ختم اک دن میں دسمبر نہیں ہونے والا
رسیاں کھینچ لو آفاق کی چاہے جتنی 
آسماں سر کے برابر نہیں ہونے والا
پیاس کی فصل اگی رہتی ہے ہر وقت یہاں
دشت بھی کھیت ہے بنجر نہیں ہونے والا
ایک قطرہ جو ہتھیلی پہ ہوا لائی ہے
سیپ میں پڑنے سے گوہر نہیں ہونے والا
نیند کے سبز سمندر! ترے ساحل پہ مجھے
خیمۂ خواب میسر نہیں ہونے والا
جو بدن آگ اگلتا ہو مساموں سے طریرؔ 
برف میں رکھنے سے پتھر نہیں ہونے والا

دانيال طرير

No comments:

Post a Comment