صفحات

Tuesday, 10 January 2017

لے گئی دہر کو جب زر کی ضیا اور طرف

لے گئی دہر کو جب زر کی ضیا اور طرف
میں چلا لے کے دِیا اور دعا اور طرف
میں کسی اور طرف بھیج رہا تھا، لیکن
لے گئی سانس کے پنچھی کو ہوا اور طرف
اور قریے میں لگی تھی مرے اظہار کو چپ
ڈھونڈنے نکلا ہوں میں اپنی صدا اور طرف
خواب اک اور طرف کھینچ رہے تھے مجھ کو
غیب کا ہاتھ مجھے لے کے چلا اور طرف
اک سفر، ایک خلا، ایک طرف ختم ہوا
اب کوئی اور سفر اور خلا اور طرف

دانيال طرير

No comments:

Post a Comment