جب یہ کہتا ہوں بس دنیا پہ اب تُف کیجیئے
نفس کہتا ہے ابھی چندے توقف کیجیئے
وہاں رسائی ہے صبا کی اور نہ قاصد کو ہے بار
اس سے آخر کس طرح پیدا تعارف کیجیئے
ضبط کیجیئے دردِ دل تو ضبط کی طاقت نہیں
دوست کے تیور ہیں ہم ہر رنگ میں پہنچانتے
بے تکلف ملیے ہم سے یا تکلف کیجیئے
جب کہ عقبیٰ مل گئی دنیا ہے پھر سہل الوصول
شیخ لگتے ہاتھ اس پر بھی تصرف کیجیئے
وقت تھا جو کام کا حاؔلی گنوا بیٹھے اسے
جایئے اب عمر بھر بیٹھے تأسف کیجیئے
توبہ حضرت کی یونہی اک دودھ کا سا ہے ابال
ہم دکھا دیں گے ذرا دم بھر تؤقف کیجیئے
الطاف حسین حالی
No comments:
Post a Comment