Tuesday, 10 January 2017

جب یہ کہتا ہوں بس دنیا پہ اب تف کیجیے

جب یہ کہتا ہوں بس دنیا پہ اب تُف کیجیئے
نفس کہتا ہے ابھی چندے توقف کیجیئے
وہاں رسائی ہے صبا کی اور نہ قاصد کو ہے بار
اس سے آخر کس طرح پیدا تعارف کیجیئے
ضبط کیجیئے دردِ دل تو ضبط کی طاقت نہیں
اور کھلا جاتا ہے رازِ دل اگر اف کیجیئے
دوست کے تیور ہیں ہم ہر رنگ میں پہنچانتے
بے تکلف ملیے ہم سے یا تکلف کیجیئے
جب کہ عقبیٰ مل گئی دنیا ہے پھر سہل الوصول
شیخ لگتے ہاتھ اس پر بھی تصرف کیجیئے
وقت تھا جو کام کا حاؔلی گنوا بیٹھے اسے
جایئے اب عمر بھر بیٹھے تأسف کیجیئے
توبہ حضرت کی یونہی اک دودھ کا سا ہے ابال
ہم دکھا دیں گے ذرا دم بھر تؤقف کیجیئے

الطاف حسین حالی

No comments:

Post a Comment