صفحات

Sunday, 1 January 2017

جلوۂ گل کا سبب دیدۂ تر ہے کہ نہیں

جلوۂ گل کا سبب دیدۂ تر ہے کہ نہیں
میری آہوں سے بہاراں کی سحر ہے کہ نہیں
راہ گم کردہ ہوں کچھ اس کو خبر ہے کہ نہیں
اس کی پلکوں پہ ستاروں کا گزر ہے کہ نہیں
دل سے ملتی تو ہے اک راہ کہیں سے آ کر
سوچتا ہوں کہ یہ تری راہ گزر ہے کہ نہیں
تیز ہو دستِ ستم دے بھی شراب اے ساقی
تیغ گردن پہ صحیح جام سپر ہے کہ نہیں
روئے مشرق کی قسم ہم کو ہے اتنا معلوم
شبِ دوراں ترے پہلو میں سحر ہے کہ نہیں
میں جو کہتا تھا سوا ے رہبرِ کوتاہ خرام
تیری منزل بھی مری گردِ سفر ہے کہ نہیں
اہلِ تقدیر ! یہ ہے معجزۂ دستِ عمل
جو خزف میں نے اُٹھایا وہ گہر ہے کہ نہیں
دیکھ کلیوں کا چٹخنا سرِ گلشن صیاد
زمزمہ سنج میرا خونِ جگر ہے کہ نہیں
ہم روایات کے منکر نہیں لیکن مجروحؔ
سب کی اور سب سے جدا اپنی ڈگر ہے کہ نہیں

مجروح سلطانپوری

No comments:

Post a Comment